8 اشعار

اب جو اک حسرت جوانی ہے

Ab jo ek hasrat-e-javānī hai

اب جو اک حسرت جوانی ہے

«اب جو اک حسرت جوانی ہے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اب جو اک حسرت جوانی ہےعمر رفتہ کی یہ نشانی ہے

رشک یوسف ہے آہ وقت عزیزعمر اک بار کاروانی ہے

گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچدل میں کوئی غم نہانی ہے

ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہتا چمن ایک پرفشانی ہے

اس کی شمشیر تیز ہے ہمدممر رہیں گے جو زندگانی ہے

غم و رنج و الم نکو یاں سےسب تمہاری ہی مہربانی ہے

خاک تھی موجزن جہاں میں اورہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے

یاں ہوئے میرؔ تم برابر خاکواں وہی ناز و سرگرانی ہے

— میر تقی میر