7 اشعار

آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں

Ārzū'eñ hazār rakhte haiñ

آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں

«آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

آرزوئیں ہزار رکھتے ہیںتو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں

برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تودل کو بے قرار رکھتے ہیں

غیر ہی مورد عنایت ہےہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں

نہ نگہ نے پیام نے وعدہنام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں

ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تولب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں

چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہوربس یہی اعتبار رکھتے ہیں

پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشقہیں جواں اختیار رکھتے ہیں

— میر تقی میر