7 اشعار

برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے

Barang-e-bū-e-gul is bāgh ke hum āshnā hote

برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے

«برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتےکہ ہم راہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے

سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کووگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے

فلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہمغبار راہ ہوتے یا کسو کی خاک پا ہوتے

الٰہی کیسے ہوتے ہیں جنہیں ہے بندگی خواہشہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے

تو ہے کس ناحیے سے اے دیار عشق کیا جانوںترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے

اب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچےجو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے

کہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میرؔ کیا جانیںانہیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے

— میر تقی میر