9 اشعار

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

Hastī apnī habāb kī sī hai

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

«ہستی اپنی حباب کی سی ہے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اس کے لب کی کیا کہیےپنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

چشم دل کھول اس بھی عالم پریاں کی اوقات خواب کی سی ہے

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوںحالت اب اضطراب کی سی ہے

نقطۂ خال سے ترا ابروبیت اک انتخاب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ یہ آوازاسی خانہ خراب کی سی ہے

آتش غم میں دل بھنا شایددیر سے بو کباب کی سی ہے

دیکھیے ابر کی طرح اب کےمیری چشم پر آب کی سی ہے

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے

— میر تقی میر