7 اشعار

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

Hamāre āge terā jab kisū ne nām liyā

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

«ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

قسم جو کھائیے تو طالع زلیخا کیعزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا

خراب رہتے تھے مسجد کے آگے مے خانےنگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا

وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھینہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا

مزا دکھاویں گے بے رحمی کا تری صیادگر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میںتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔپہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا

— میر تقی میر