11 اشعار

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

Jis sar ko ghuroor aaj hai yan tajwari ka

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

«جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کاکل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کاچلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامتاسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کیاب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

ہر زخم جگر داور محشر سے ہماراانصاف طلب ہے تری بیداد گری کا

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھوآئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا

صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرےمقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا

اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے توٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا

کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کرتھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لےکیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا

— میر تقی میر