7 اشعار

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا

Jo is shor se Meer rota rahe ga

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا

«جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گاتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوںجسے ابر ہر سال روتا رہے گا

مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصحتو کب تک مرے منہ کو دھوتا رہے گا

بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیںکہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا

مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہےجرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا

تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دےہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا

بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کوتو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا

— میر تقی میر