9 اشعار

کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق

Kya haqeeqat kahun ke kya hai ishq

کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق

«کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشقحق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشق

دل لگا ہو تو جی جہاں سے اٹھاموت کا نام پیار کا ہے عشق

اور تدبیر کو نہیں کچھ دخلعشق کے درد کی دوا ہے عشق

کیا ڈبایا محیط میں غم کےہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق

عشق سے جا نہیں کوئی خالیدل سے لے عرش تک بھرا ہے عشق

کوہ کن کیا پہاڑ کاٹے گاپردے میں زور آزما ہے عشق

عشق ہے عشق کرنے والوں کوکیسا کیسا بہم کیا ہے عشق

کون مقصد کو عشق بن پہنچاآرزو عشق مدعا ہے عشق

میرؔ مرنا پڑے ہے خوباں پرعشق مت کر کہ بد بلا ہے عشق

— میر تقی میر