دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
کلام: مرزا غالب
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے