16 اشعار

۸ جنوری (۱۹۵۳)

8 January (1953)

۸ جنوری (۱۹۵۳)

«۸ جنوری (۱۹۵۳)» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

۸ جنوری (۱۹۵۳)( کراچی طلباء پہ فائرنگ سے متاثر ہو کر )

سالِ نو لے ہی رہا تھا سالِ کہنہ سے خراجدفعتا برہم ہوا، بندہ نوازوں کا مزاج

دامنِ انسانیت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئےپرچمِ امن و سکوں کے پرزے پرزے کر دیئے

ہونٹ کھلنے بھی نہ پاۓ تھے براۓ عرضِ حالاٹھنے بھی پایا نہ تھا پوری طرح دستِ سوال

گولیاں چلنے لگیں معصوم زد میں آگئےنونہالانِ وطن جامِ شہادت پا گئے

ماں کی ممتا خون میں تحلیل ہو کر بہہ گئیباپ کی شفقت سرِ بازار لٹ کر رہ گئی

دیکھ کر بیداد بوڑھا آسماں تھرّا گیاظلم شرمایا جفاؤں کو پسینہ آگیا

علم کے بیوپاریوں ، نکتہ رسو ، دانش وروںعارضی فرماں رواؤں ، محلاتی رہبروں

کیا سمجھتے ہو ستارے تیرگی میں کھو گئےسر پھرے معصوم باغی نیند گہری سو گئے

چند تنکوں سے بھلا طوفان رکتا ہے کہیںعزم مستحکم بروۓ جھکتا ہے کہیں

جو قدم راہ طلب میں بڑھ گئے رکتے نہیںکٹ تو سکتے ہیں مگر جادہ بدل سکتے نہیں

تندخو سیلِ رواں کو روک سکتا ہے کوئیراہردان راہ حق کو ٹوک سکتا ہے کوئی

کس میں ہمت ہے کہ غنچوں کی نمو کو روک دےقید کر لے نکہتیں اور رنگ و بو کو روک دے

پھول جو پاۓ تکبر سے مسل ڈالے گئےصفحہ تاریخ کا عنوان وہ بن کر رہے

شاخ اک کاٹی تو اور اگتی ہیں وہیںروندنے سے سبزۂ شاداب مرجھایا نہیں

سرخی خونِ شہیداںِ رائیگاں جاتی نہیںرنگ لاتی ہے تمنا گھٹ کے مرجاتی نہیں

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں