5 اشعار

نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے

Nigaar-e-subh-e-darakhshaan se lau lagaaye hue

نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے

«نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئےہیں اپنے دوش پہ اپنی صلیب اٹھائے ہوئے

گزر رہے ہیں دبے پاؤں وقت کی مانندفراز دار پہ اپنی نظر جمائے ہوئے

صلہ ملے نہ ملے خون دل چھڑکتے چلیںہر ایک خار ہے دست طلب بڑھائے ہوئے

وہ اب بھی سایۂ ابر رواں کو تکتے ہیںجنہیں زمانہ ہوا اپنا گھر جلائے ہوئے

چھلک سکا نہ کبھی جام چشم تر محسنؔاگرچہ عمر ہوئی ہم کو گنگنائے ہوئے

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں