نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو
کلام: محسن بھوپالی
نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کوان اُڑتی تتلیوں ، آوارہ بھنوروں کو ،
تسلسل ٹوٹ جائے گا !فضا محو سماعت ہے ،
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کوان اُڑتی تتلیوں ، آوارہ بھنوروں کو ،
تسلسل ٹوٹ جائے گا !فضا محو سماعت ہے ،
۸ جنوری (۱۹۵۳)( کراچی طلباء پہ فائرنگ سے متاثر ہو کر )
سالِ نو لے ہی رہا تھا سالِ کہنہ سے خراجدفعتا برہم ہوا، بندہ نوازوں کا مزاج