5 اشعار

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا

Abhi kuchh aur bhi gard o ghubaar ubhrega

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا

«ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گاپھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا

سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہےمجھے یقین ہے پھر ایک بار ابھرے گا

پڑی بھی رہنے دو ماضی پہ مصلحت کی راکھکریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا

ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہیہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا

شب سیہ کا مقدر شکست ہے محسنؔدر افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں