16 اشعار

نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو

Na chheṛo khilti kaliyon, hanste phoolon ko

نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو

«نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کوان اُڑتی تتلیوں ، آوارہ بھنوروں کو ،

تسلسل ٹوٹ جائے گا !فضا محو سماعت ہے ،

حسین ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو ،نگاہیں نیچی رکھو

اورمجسم گوش بن جاؤ

اگر جنبش لبوں کو دی ،تسلسل ٹوٹ جائے گا !

افق میں ڈوبتے سورج کا منظراس بلندی سے ذرا دیکھو

اسی رنگین کنارے پر ،شفق سونا لٹائے گی

یونہی تم بےحس و ساکت رہوایسے میں پلکیں بھی ذرا جھپکیں

تسلسل ٹوٹ جائے گا !وہ خوابیدہ ہے ، خوابیدہ ہی رہنے دو

نا جانے خواب میں کن وادیوں کی سیر کرتی ہوبلندی سے پھسلتے آبشاروں میں کہیں گم ہو

فلک آثار چوٹی پر کہیں محو ترنم ہواگر آواز دی تم نے

تسلسل ٹوٹ جائے گا !میں شاعر ہوں ،

میری فکر رساں ، احساس کی اس سطح پر ہےجس میں خوشبو رنگ بنتی ہے

صدا کو شکل ملتی ہےتصور بول اٹھتا ہے

خاموشی گنگناتی ہےیہ وہ وقفہ ہے _ _ _ _ _ _ ایسے میں ،

اگر داد سخن بھی دیتسلسل ٹوٹ جائے گا !​

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں