المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے
کلام: محسن بھوپالی
المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہےڈوبنے والو بچاؤ نا خدا خطرے میں ہے
خون دل دینا ہی ہوگا اے اسیران چمنبوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہےڈوبنے والو بچاؤ نا خدا خطرے میں ہے
خون دل دینا ہی ہوگا اے اسیران چمنبوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے
بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھاچاہے جانے کے سبھی عیب و ہنر رکھتا تھا
لا تعلق نظر آتا تھا بظاہر لیکنبے نیازانہ ہر اک دل میں گزر رکھتا تھا
ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گاپھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا
سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہےمجھے یقین ہے پھر ایک بار ابھرے گا
میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں