5 اشعار

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں

Nazar mila ke zara dekh mat jhuka aankhen

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں

«نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیںبڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں

جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گادل آئینہ ہے مگر دل کا آئنا آنکھیں

وہ اک ستارہ تھا جانے کہاں گرا ہوگاخلا میں ڈھونڈ رہی ہیں نہ جانے کیا آنکھیں

غم حیات نے فرصت نہ دی ٹھہرنے کیپکارتی ہی رہی ہیں مجھے سدا آنکھیں

یہ اس کا طرز تخاطب بھی خوب ہے محسنؔرکا رکا سا تبسم خفا خفا آنکھیں

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں