9 اشعار

دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ

Dosto bargah-e-qatil sajate jao

دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ

«دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤقرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ

رہے خاموش تو یہ ہونٹ سلگ اٹھیں گےشعلۂ فکر کو آواز بناتے جاؤ

اپنی تقدیر میں صحرا ہے تو صحرا ہی سہیآبلہ پاؤ! نئے پھول کھلاتے جاؤ

زندگی سایۂ دیوار نہیں دار بھی ہےزیست کو عشق کے آداب سکھاتے جاؤ

بے ضمیری ہے سرافراز تو غم کیسا ہےاپنی تذلیل کو معیار بناتے جاؤ

اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوارہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ

کارواں عزم کا روکے سے کہیں رکتا ہےلاکھ تم راہ میں دیوار اٹھاتے جاؤ

ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعامجاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ

جن کو گہنہ دیا افکار کی پرچھائیں نےمحسنؔ ان چہروں کو آئینہ دکھاتے جاؤ

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں