دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ
کلام: محسن بھوپالی
دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤقرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ
رہے خاموش تو یہ ہونٹ سلگ اٹھیں گےشعلۂ فکر کو آواز بناتے جاؤ
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤقرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ
رہے خاموش تو یہ ہونٹ سلگ اٹھیں گےشعلۂ فکر کو آواز بناتے جاؤ