5 اشعار

ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو

Hamare ghar tabah hon, gham o malaal kuch bhi ho

ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو

«ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہورہیں گے ہم اِسی جگہ، ہمارا حال کچھ بھی ہو

جو سراپا خیر ہے ، اُسی کا امتی ہوں میںمرا جواب پیار ہے، ترا سوال کچھ بھی ہو

تمام مہرے سچ کے ہیں، ہم اہلِ حق کے ہاتھ میںہماری جیت طے رہی، کسی کی چال کچھ بھی ہو

ہمارے بھائیوں کو بس غرض ہے اقتدار سےوطن کا حال کچھ بھی ہو، یہاں وبال کچھ بھی ہو

یہ اندھی سوچ دے رہے ہیں نسلِ نو کو رہنماروش روش کو روند ڈالو، پائمال کچھ بھی ہو

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں