6 اشعار

وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا

Woh barg-e-khushk tha aur daman-e-bahar mein tha

وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا

«وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھانمود نو کی بشارت کے انتظار میں تھا

مری رفیق سفر تھیں حسد بھری نظریںوہ آسمان تھا اور میرے اختیار میں تھا

بکھر گیا ہے تو اب دل نگار خانہ ہےغضب کا رنگ اس اک نقش اعتبار میں تھا

اب آ گیا ہے تو ویرانیوں پر طنز نہ کرترا مکاں اسی اجڑے ہوئے دیار میں تھا

لکھے تھے نام مرے قتل کرنے والوں کےعجیب بات ہے میں بھی اسی شمار میں تھا

مجھے تھا زعم مگر میں بکھر گیا محسنؔوہ ریزہ ریزہ تھا اور اپنے اختیار میں تھا

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں