ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو
کلام: محسن بھوپالی
ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہورہیں گے ہم اِسی جگہ، ہمارا حال کچھ بھی ہو
جو سراپا خیر ہے ، اُسی کا امتی ہوں میںمرا جواب پیار ہے، ترا سوال کچھ بھی ہو
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہورہیں گے ہم اِسی جگہ، ہمارا حال کچھ بھی ہو
جو سراپا خیر ہے ، اُسی کا امتی ہوں میںمرا جواب پیار ہے، ترا سوال کچھ بھی ہو
اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہےجس قدر ظلم بڑھے عزم سوا ہوتا ہے
صوت و آہنگ ہی پیرایۂ اظہار نہیںبے نوائی میں بھی انداز نوا ہوتا ہے