11 اشعار

خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے

Khurd bhi zer-e-daam hai, junoon bhi zer-e-daam hai

خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے

«خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہےہوس کا نام عشق ہے، طلب خودی کا نام ہے

نظر اداس، دل ملول، روح تشنہ کام ہےمگر لبوں پہ نغمۂ حیاتِ شاد کام ہے

رہین عارض حسین، اسیر زلفِ مشکبو!نگاہ میں لیے ہوئے گھٹی گھٹی سی جستجو

بھٹک رہے ہیں وادیِ خزاں میں بہر رنگ و بوسحر کے گیت گار ہے ہیں اور وقتِ شام ہے

نظر میں ماہ و کہکشاں ہیں عظمت بشر نہیںقدم بڑھا رہے ہیں اور راہ معتبر نہیں

فریب خوردۂ چمن ہیں دام پر نظر نہیںخیالِ نظمِ میکدہ نہیں ہے، فکرِ جام ہے

ملا وہ اختیار جس پہ بے بسی ہے خندہ زنوہ روشنی ملی کہ جس پر تیرگی ہے خندہ زن

وہ زندگی ملی کہ جس پر موت بھی ہے خندہ زنبضد ہیں پھر بھی کج نظر حیات شاد کام ہے

نمائش و نمود وننگ و نام پر نگاہ ہے!جمالِ یار و جوئبار و جام پر نگاہ ہے

بنامِ بندگی، بتانِ بام پر نگاہ ہےشباب و شعر و شاہد و شراب سے ہی کام ہے

اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں