جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
کلام: محسن بھوپالی
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائےاس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہےکم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائےاس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہےکم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیںبڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں
جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گادل آئینہ ہے مگر دل کا آئنا آنکھیں
نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئےہیں اپنے دوش پہ اپنی صلیب اٹھائے ہوئے
گزر رہے ہیں دبے پاؤں وقت کی مانندفراز دار پہ اپنی نظر جمائے ہوئے