زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
کلام: محسن بھوپالی
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتادائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا
عمر مصروف کوئی لمحۂ فرصت ہو عطامیں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتادائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا
عمر مصروف کوئی لمحۂ فرصت ہو عطامیں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا
سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگوقت سے پہلے مر جاتے ہیں کتنے ایسے لوگ
سر پر چڑھ کر بول رہے ہیں پودے جیسے لوگپیڑ بنے خاموش کھڑے ہیں کیسے کیسے لوگ