وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا
کلام: محسن بھوپالی
وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھانمود نو کی بشارت کے انتظار میں تھا
مری رفیق سفر تھیں حسد بھری نظریںوہ آسمان تھا اور میرے اختیار میں تھا
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھانمود نو کی بشارت کے انتظار میں تھا
مری رفیق سفر تھیں حسد بھری نظریںوہ آسمان تھا اور میرے اختیار میں تھا