9 اشعار

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

Ab ke barish mein to yeh kar-e-ziyan hona hi tha

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

«اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھااپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنابرگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا

جب کوئی سمت سفر طے تھی نہ حد رہ گزراے مرے رہ رو سفر تو رائیگاں ہونا ہی تھا

مجھ کو رکنا تھا اسے جانا تھا اگلے موڑ تکفیصلہ یہ اس کے میرے درمیاں ہونا ہی تھا

چاند کو چلنا تھا بہتی سیپیوں کے ساتھ ساتھمعجزہ یہ بھی تہہ آب رواں ہونا ہی تھا

میں نئے چہروں پہ کہتا تھا نئی غزلیں سدامیری اس عادت سے اس کو بد گماں ہونا ہی تھا

شہر سے باہر کی ویرانی بسانا تھی مجھےاپنی تنہائی پہ کچھ تو مہرباں ہونا ہی تھا

اپنی آنکھیں دفن کرنا تھیں غبار خاک میںیہ ستم بھی ہم پہ زیر آسماں ہونا ہی تھا

بے صدا بستی کی رسمیں تھیں یہی محسنؔ مرےمیں زباں رکھتا تھا مجھ کو بے زباں ہونا ہی تھا

— محسن نقوی