7 اشعار

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا

Ab woh toofan hai na woh shor hawaon jaisa

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا

«اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسادل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا

کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دےخامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا

پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملااس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا

کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس‌ مآلپھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا

کیا قیامت ہے کہ دنیا اسے سردار کہےجس کا انداز سخن بھی ہو گداؤں جیسا

پھر تری یاد کے موسم نے جگائے محشرپھر مرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا

بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔاس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

— محسن نقوی