9 اشعار

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

Agarche main ek chatan sa aadmi raha hoon

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

«اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوںمگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں

وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہےمیں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں

تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرامجھے تو لگتا ہے میں ترا دوست بھی رہا ہوں

کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھرکوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں

کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کیکہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھاکہ میں تو خود اپنے گھر میں بھی دو گھڑی رہا ہوں

ملا تو بیتے دنوں کا سچ اس کی آنکھ میں تھاوہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا ہوں

بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکنگنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں

وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسنؔیہ ناز کم ہے کہ میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں

— محسن نقوی