شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
کلام: محسن نقوی
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہیدرد جو دل میں ہے چمکے تو سہی
ہم وہیں پر بسا لیں خود کووہ کبھی راہ میں روکے تو سہی
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہیدرد جو دل میں ہے چمکے تو سہی
ہم وہیں پر بسا لیں خود کووہ کبھی راہ میں روکے تو سہی