7 اشعار

اگر چمن کا کوئی در کھلا بھی میرے لیے

Agar chaman ka koi dar khula bhi mere liye

اگر چمن کا کوئی در کھلا بھی میرے لیے

«اگر چمن کا کوئی در کھلا بھی میرے لیے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

اگر چمن کا کوئی در کھلا بھی میرے لیےسموم بن گئی باد صبا بھی میرے لیے

مرا سخن بھی ہوا اس کے نام سے موسومعبث ہوا مرا اپنا کہا بھی میرے لیے

یہی نہیں کہ وہ رستے سے موڑ کاٹ گیانہ چھوڑا اس نے کوئی نقش پا بھی میرے لیے

تعلقات کا رکھنا بھی توڑنا بھی محالعذاب جاں ہے یہ رسم وفا بھی میرے لیے

مجھے طویل سفر کا ملا تھا حکم تو پھرکچھ اور ہوتی کشادہ فضا بھی میرے لیے

مرے لیے جو ہے زنجیر میرا اوج نظرکمند ہے مری فکر رسا بھی میرے لیے

دوا ہے میرے لیے جس کی خاک پا محسنؔاسی کا اسم ہے حرف دعا بھی میرے لیے

— محسن زیدی