7 اشعار

اس طرف سے اس طرف تک خشک و تر پانی میں ہے

Is Taraf Se Is Taraf Tak Khushk O Tar Paani Mein Hai

اس طرف سے اس طرف تک خشک و تر پانی میں ہے

«اس طرف سے اس طرف تک خشک و تر پانی میں ہے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

اس طرف سے اس طرف تک خشک و تر پانی میں ہےاب سمندر سے سمندر تک نظر پانی میں ہے

میری آنکھوں میں ادھر منظر ہے اپنی موت کااور کوئی ڈوبنے والا ادھر پانی میں ہے

جانے کب میرے سمندر کو کوئی ساحل ملےکب سے میرا جسم سرگرم سفر پانی میں ہے

کشتی انفاس زیر آب بھی ہے شعلہ بارتہہ بہ تہہ جیسے کوئی موج شرر پانی میں ہے

جل گیا ہوتا شعاع مہر سے یہ شہر بھیخیریت گزری کہ خوابوں کا نگر پانی میں ہے

اس بلندی سے لگاؤں کس طرف اب میں چھلانگایک در ہے دشت میں تو ایک در پانی میں ہے

ہو چکے ہیں کب کے چکنا چور آئینے سبھییہ تو محسنؔ اپنا ہی عکس نظر پانی میں ہے

— محسن زیدی