6 اشعار

رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے

Raste mein koi aa ke inaangeer ho na jaaye

رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے

«رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائےیہ جذبۂ جنوں مرا زنجیر ہو نہ جائے

اس کو جو اب کسی سے شکایت نہیں رہیپھر کیوں وہ سب سے مل کے بغل گیر ہو نہ جائے

میں نے زبان دی ہے تو لب وا کروں گا کیالیکن زبان خلق سے تشہیر ہو نہ جائے

منظر یہ حشر خیز جو پیش نگاہ ہےڈرتا ہوں میرے خواب کی تعبیر ہو نہ جائے

آنکھوں میں بس گئی ہے وہ تصویر اس طرحمیری نگاہ شوق بھی تصویر ہو نہ جائے

محسنؔ نہ جانے صبح نمودار ہوگی کبیہ شام بے چراغ ہی تقدیر ہو نہ جائے

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں