10 اشعار

باغ سارا تو بیاباں نہ ہوا تھا سو ہوا

Baagh Saara To Bayaabaan Na Hua Tha So Hua

باغ سارا تو بیاباں نہ ہوا تھا سو ہوا

«باغ سارا تو بیاباں نہ ہوا تھا سو ہوا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

باغ سارا تو بیاباں نہ ہوا تھا سو ہواجو خزاں کا کبھی احساں نہ ہوا تھا سو ہوا

ہم تو بیدار ہوئے خواب سے اپنے لیکنوہ بھی خوابوں میں پریشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

ہم بھی کچھ سوچ کے کر بیٹھے بالآخر شکوہوہ بھی پہلے تو پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا

مشعلیں سر کی سجائی گئیں طشت زر میںکب سے مقتل میں چراغاں نہ ہوا تھا سو ہوا

سفر جاں کی ہوئی اب کہیں جا کر تکمیلیعنی میں بے سر و ساماں نہ ہوا تھا سو ہوا

دیکھتے دیکھتے آ پہنچا سروں تک پانیاب تک اندازۂ طوفاں نہ ہوا تھا سو ہوا

دوستو میں جو تعلق تھا وہ باقی نہ رہادشمنوں میں کوئی پیماں نہ ہوا تھا سو ہوا

اور کیا مجھ کو صلہ ملتا خلوص دل کاہدف تہمت یاراں نہ ہوا تھا سو ہوا

دشت میں ابر تو برسا وہ دو اک بوند سہیپہلے اتنا بھی تو امکاں نہ ہوا تھا سو ہوا

محسنؔ اچھا ہی ہوا اس نے الٹ دی جو نقابرنگ اس کا جو نمایاں نہ ہوا تھا سو ہوا

— محسن زیدی