7 اشعار

ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگ

Waise To Humsafar Hain Sabhi Raaston Mein Log

ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگ

«ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگ» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگلیکن بنٹے ہوئے ہیں کئی قافلوں میں لوگ

چہرہ اگرچہ اپنا نہیں دوسرے کا ہےخوش پھر بھی عکس دیکھ کے ہیں آئنوں میں لوگ

اچھا ہے دور ابھی جو حقائق نظر سے ہیںجی لیں گے تھوڑی دیر یوںہی آسروں میں لوگ

شب کو دیے جلانا بجھا دینا صبح کومصروف رات دن ہیں انہیں مشغلوں میں لوگ

سب جانتے ہیں کون ہے قاتل زمانے میںلاتے ہیں ایسی بات کہیں تذکروں میں لوگ

یہ راہ حق یہ جادۂ عرفان و آگہیمارے گئے ہیں جاں سے انہیں راستوں میں لوگ

محسنؔ یہ دشت جاں کا سفر سیر گل نہیںچل تو پڑے ہیں گھر سے بڑے ولولوں میں لوگ

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں