12 اشعار

بسکہ دشوار ہے اس شخص کا چہرا لکھنا

Bas-ke dushwaar hai us shakhs ka chehra likhna

بسکہ دشوار ہے اس شخص کا چہرا لکھنا

«بسکہ دشوار ہے اس شخص کا چہرا لکھنا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

بسکہ دشوار ہے اس شخص کا چہرا لکھناورنہ مشکل تو نہیں کوئی سراپا لکھنا

یہ بھی ممکن ہے کہ تحریر بدل دی جائےدوستو اپنا بیاں خون سے پختہ لکھنا

کچھ ہمیں سیر و تماشا سے نہیں دلچسپیشغل بس اپنا ہے تنہائی میں پڑھنا لکھنا

دل کا دروازہ تمہارے لئے وا رکھیں گےلوٹ آنے کا کبھی ہو جو ارادہ لکھنا

بھیج تو سکتے ہو تم لکھ کے شکایت ان کوشرط بس یہ ہے کہ کوئی لفظ نہ چبھتا لکھنا

لوگ اسناد کے کشکول لیے پھرتے ہیںکتنا بے سود ہے اس دور میں پڑھنا لکھنا

کیسے دیوانے ہیں لکھتے ہوئے تھکتے ہی نہیںایک ہی لفظ کو سیدھا کبھی الٹا لکھنا

پاس تہذیب تو کچھ پاس قلم ہے ہم کوورنہ آتا ہے ہمیں جیسے کو تیسا لکھنا

لوگ جب لکھ کے سیہ کر گئے دیواریں تککون پڑھتا ہے بھلا ریت پہ میرا لکھنا

سر میں سودا تھا عجب لکھ گیا اس کو کیا کچھدل نے سمجھایا بہت تھا کہ نہ ایسا لکھنا

یاد کیا رکھتا کہ وہ زود فراموش بھی تھامیں بھی کچھ بھول گیا اس کو تقاضا لکھنا

لکھتے ہی جائیں گے ہم ان کو عریضے محسنؔوہ پڑھیں یا نہ پڑھیں کام ہے اپنا لکھنا

— محسن زیدی