7 اشعار

کیا دیکھتے ہو راہ میں رک کر یہاں وہاں

Kya dekhte ho raah mein ruk kar yahan wahan

کیا دیکھتے ہو راہ میں رک کر یہاں وہاں

«کیا دیکھتے ہو راہ میں رک کر یہاں وہاں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

کیا دیکھتے ہو راہ میں رک کر یہاں وہاںہے قتل و خوں کا ایک سا منظر یہاں وہاں

زیر نگیں اسی کے سبھی قریہ و دیاراس کے ہی سب ہیں خیمہ و لشکر یہاں وہاں

ہے درمیان خنجر و سر فاصلے کا فرقورنہ سروں پہ ہے وہی خنجر یہاں وہاں

شیشے کے سب مکاں ہیں شکستہ ادھر ادھربکھرے پڑے ہیں شہر میں پتھر یہاں وہاں

محفوظ رہ گیا نہ کوئی راستہ نہ موڑجایا کرو نہ گھر سے نکل کر یہاں وہاں

لگتا ہے اب الٹنے کو ہے یہ بساط شبسرگوشیاں یہی ہیں برابر یہاں وہاں

محسنؔ عجیب حبس کا عالم ہے اور میںکوئی دریچہ ہے نہ کوئی در یہاں وہاں

— محسن زیدی