9 اشعار

دکھا رہی ہے جہاں دھوپ اب اثر اپنا

Dikha rahi hai jahan dhoop ab asar apna

دکھا رہی ہے جہاں دھوپ اب اثر اپنا

«دکھا رہی ہے جہاں دھوپ اب اثر اپنا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

دکھا رہی ہے جہاں دھوپ اب اثر اپنابکھیرتا تھا وہیں سایہ اک شجر اپنا

پھلوں کا اب کے بھی پہلے سے ہو گیا سودادرخت چھو نہ سکیں گے کوئی ثمر اپنا

بہت ہی تیز تھا خنجر ہوا کے ہاتھوں میںبچا سکا کوئی طائر نہ بال و پر اپنا

کبھی جو سامنے آیا تو چھپ گیا ہوں کبھییہ ایک کھیل رہا خود سے عمر بھر اپنا

ابھی تو باقی ہیں منزل کی ٹھوکریں کچھ اوریہیں پہ ختم نہیں ہے ابھی سفر اپنا

یہ کون شمع لئے پیش پیش چلتا رہادکھائی بھی نہ دیا کون تھا خضر اپنا

نظام جبر کی وہ کر رہا ہے پھر توسیعبڑھا رہا ہے وہ پھر حلقۂ اثر اپنا

کوئی نہیں ہے جو شمشیر چھین لے اس سےچھپائے پھرتا ہے ہر ایک شخص سر اپنا

کسی پہ کھلتا بھی کیا اپنا کرب‌ غم محسنؔنہ کوئی مرثیہ خواں تھا نہ نوحہ گر اپنا

— محسن زیدی