9 اشعار

چاروں طرف بلند نشاں تیرگی کا تھا

Chaaron taraf buland nishan teergi ka tha

چاروں طرف بلند نشاں تیرگی کا تھا

«چاروں طرف بلند نشاں تیرگی کا تھا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

چاروں طرف بلند نشاں تیرگی کا تھارکھا ہوا فصیل پہ سر روشنی کا تھا

سر پر مرے عذاب زمانہ نہ تھا کوئیمجھ پر تو اک عذاب مری آگہی کا تھا

میری ہی طرح ٹوٹ کے وہ بھی بکھر گیامیری طرح گماں اسے شیشہ گری کا تھا

کیا سوچ کر تم ایسے سفر پر نکل پڑےامکاں نہ جس سفر سے کوئی واپسی کا تھا

آیا تھا لوٹنے مرا ہمزاد بھی مجھےکس کو خیال لوٹ میں ہمسائیگی کا تھا

رنگوں کے ازدحام میں سب رنگ عام تھےممتاز تھا تو رنگ تری سادگی کا تھا

منزل بہ منزل اس کے بچھڑنے کا غم ہے کیوںرستے میں جس کا ساتھ گھڑی دو گھڑی کا تھا

بڑھ کر وہاں بھی شب نے سیاہی انڈیل دیہلکا سا شائبہ بھی جہاں روشنی کا تھا

میری کتاب شعر میں سادہ جو رہ گیامحسنؔ وہی ورق تو مری شاعری میں تھا

— محسن زیدی