7 اشعار

دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں

Door tak sabza kahin hai aur na koi saayeban

دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں

«دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباںزیر پا تپتی زمیں ہے سر پہ جلتا آسماں

جیسے دو ملکوں کو اک سرحد الگ کرتی ہوئیوقت نے خط ایسا کھینچا میرے اس کے درمیاں

اب کے سیلاب بلا سب کچھ بہا کر لے گیااب نہ خوابوں کے جزیرے ہیں نہ دل کی کشتیاں

لطف ان کا اب ہوا تو ہے مگر کچھ اس طرحجیسے صحرا سے گزر جائے کوئی ابر رواں

منحصر ہے ایسی اک بنیاد پر اس کا یقیںجس طرح دوش ہوا پر کوئی تنکوں کا مکاں

بے زبانوں سے خموشی کا گلہ کیسا کہ جبسو گئے لفظوں کی چادر تان کر اہل زباں

یہ سفر کیسا ہے محسنؔ جتنا بڑھتے جائیےبڑھتی جائیں اتنی ہی منزل بہ منزل دوریاں

— محسن زیدی