6 اشعار

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا

Naqsh paani pe banaya kyun tha

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا

«نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھاجب بنایا تو مٹایا کیوں تھا

گئے وقتوں کا ہے اب رونا کیوںآئے وقتوں کو گنوایا کیوں تھا

بیٹھ جانا تھا اگر مثل غبارسر پہ طوفان اٹھایا کیوں تھا

میری منزل نہ کہیں تھی تو مجھےدشت در دشت پھرایا کیوں تھا

وہ نہ ہمدم تھا نہ دم ساز کوئیحال دل اس کو سنایا کیوں تھا

دور رہنا تھا جب اس کو محسنؔمیرے نزدیک وہ آیا کیوں تھا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں