7 اشعار

امید کوئی نہیں آسرا بھی کوئی نہیں

Ummeed koi nahin aasra bhi koi nahin

امید کوئی نہیں آسرا بھی کوئی نہیں

«امید کوئی نہیں آسرا بھی کوئی نہیں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

امید کوئی نہیں آسرا بھی کوئی نہیںدوا بھی کوئی نہیں اب دعا بھی کوئی نہیں

کچھ اتنے ہو گئے بیزار اپنے حال سے لوگکہ اپنے حال پہ اب سوچتا بھی کوئی نہیں

بتائے کون وہاں کیا گزر گئی کس پرکہ اس دیار سے آیا گیا بھی کوئی نہیں

حصار جاں کے وہ اس پار ہی تو رہتا ہےفقط ہے شرط سفر فاصلا بھی کوئی نہیں

گزر ہوا جو کبھی اس سے مل لئے ورنہسوال اس سے کجا مدعا بھی کوئی نہیں

مرے سخن نے مجھے روشناس سب سے کیاوگرنہ چہرے سے پہچانتا بھی کوئی نہیں

ہمیں نے خود پہ کئے بند سارے در محسنؔنکلنا چاہیں تو اب راستا بھی کوئی نہیں

— محسن زیدی