8 اشعار

دوش ہوا پہ تنکوں کا یہ آشیانہ کیا

Dosh-e-hawa pe tinkon ka ye aashiyana kya

دوش ہوا پہ تنکوں کا یہ آشیانہ کیا

«دوش ہوا پہ تنکوں کا یہ آشیانہ کیا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

دوش ہوا پہ تنکوں کا یہ آشیانہ کیاجس کو اجڑ ہی جانا ہے وہ گھر بسانا کیا

ہم کو چھپا رہے ہو یہ آخر ہمیں سے کیوںہم سے ملا رہے ہو ہمیں غائبانہ کیا

ہم کون جزو خاص کسی داستاں کے تھےکیسا ہمارا ذکر ہمارا فسانہ کیا

آنکھوں میں اشک روک لیے اس خیال سےمٹی میں موتیوں کا لٹائیں خزانہ کیا

وہ بزم دوستاں نہ وہ اب کوئے دلبراںباہر نکل کے گھر سے کہیں آنا جانا کیا

مقصد یہ کیا نہیں ہے کہ دشمن کو ہو شکستیہ جنگ ہو رہی ہے کوئی دوستانہ کیا

جب سب یہاں خموش ہیں دیوار کی طرحپھر سننا کیا کسی سے کسی کو سنانا کیا

محسنؔ کہیں بھی لے کے ہمیں آب و دانہ جائےاپنا یہاں پہ ٹھور کوئی کیا ٹھکانا کیا

— محسن زیدی