9 اشعار

کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا

Koi bewajah kyun khafa hoga

کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا

«کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگاکچھ تو اس کو برا لگا ہوگا

آگے جا کر ٹھہر گیا ہوگاوہ مری راہ تک رہا ہوگا

چھوڑ آئے تھے ہم جلا کے جسےوہ دیا کب کا بجھ گیا ہوگا

جب وہ آواز تھم گئی ہوگیشب کا سناٹا بولتا ہوگا

کیسے معلوم ہو کہ آخر وقتاس نے کیا کچھ کہا سنا ہوگا

کیوں ہوا تیز ابھی سے چلنے لگیغنچہ کم کم ابھی کھلا ہوگا

لہجہ اس کا بھی کچھ تھا اپنا ساوہ بھی اپنے دیار کا ہوگا

پہلا سجدہ جہاں کیا تھا وہیںآخری سجدہ بھی ادا ہوگا

ہو نہ ہو منزل آ گئی محسنؔچند قوموں کا فاصلا ہوگا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں