7 اشعار

ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا

Hamein to khair koi doosra accha nahin lagta

ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا

«ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتاانہیں خود بھی کوئی اپنے سوا اچھا نہیں لگتا

نہیں گر نغمۂ شادی نفیر غم سہی کوئیکہ ساز زندگانی بے صدا اچھا نہیں لگتا

ہمیں یہ بند کمروں کا مکاں کچھ بھا گیا اتناکہ ہم کو اب کوئی آنگن کھلا اچھا نہیں لگتا

کچھ اتنی تلخ اس دن ہو گئی تھی گفتگو ان سےکئی دن سے زباں کا ذائقہ اچھا نہیں لگتا

کبھی نزدیک آ کر روبرو بھی ہوں ملاقاتیںکہ ہم سایوں میں اتنا فاصلہ اچھا نہیں لگتا

کٹھن رستوں پہ چلنا اپنی افتاد طبیعت ہےہمیں آسان کوئی راستا اچھا نہیں لگتا

اسے ہم مرثیہ گویوں پہ محسنؔ چھوڑ دیتے ہیںلکھیں ہم آپ اپنا مرثیہ اچھا نہیں لگتا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں