10 اشعار

کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں

Koi deewar na dar jaante hain

کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں

«کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کوئی دیوار نہ در جانتے ہیںہم اسی دشت کو گھر جانتے ہیں

جان کر چپ ہیں وگرنہ ہم بھیبات کرنے کا ہنر جانتے ہیں

یہ مہم ہدیۂ سر مانگتی ہےاس میں ہے جاں کا خطر جانتے ہیں

لد گئی شاخ لہو پھولوں سےآئیں گے اب کے ثمر جانتے ہیں

جان جانی ہے تو جائے گی ضرورہم دعاؤں کا اثر جانتے ہیں

کون ہے تابع مہمل کس کاکس کا ہے کس پہ اثر جانتے ہیں

لوگ اسے مصلحتاً کچھ نہ کہیںاس کی اوقات مگر جانتے ہیں

رات کس کس کے اڑے ہیں پرزےشہر میں کیا ہے خبر جانتے ہیں

رات کاٹے نہیں کٹتی ہے مگررات ہے تا بہ سحر جانتے ہیں

ہم نے بھی دیکھی ہے دنیا محسنؔہے کدھر کس کی نظر جانتے ہیں

— محسن زیدی