6 اشعار

کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے

Koi kashti mein tanha ja raha hai

کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے

«کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے محمد اویس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہےکسی کے ساتھ دریا جا رہا ہے

یہ بستی بھی نہ کیا راس آئی اس کواٹھا کر کیوں وہ خیمہ جا رہا ہے

کہیں اک بوند بھی برسا نہ پانیکہیں بادل برستا جا رہا ہے

دیے ایک ایک کر کے بجھ رہے ہیںاندھیرا ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے

پہاڑ اوپر تو نیچے کھائیاں ہیںجہاں سے ہو کے رستہ جا رہا ہے

وہ واپس لے رہا ہے قرض اپناہمارے پاس سے کیا جا رہا ہے

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں