8 اشعار

اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا

Ik aas to hai koi sahara nahin to kya

اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا

«اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیارستے میں کچھ شجر تو ہیں سایہ نہیں تو کیا

رہتا ہے کوئی شخص مرے دل کے آس پاسمیں نے اسے قریب سے دیکھا نہیں تو کیا

تو ہی بتا کہ چاہیں تجھے اور کس طرحیہ تیری جستجو یہ تمنا نہیں تو کیا

ہم دور دور رہ کے بھی چلتے رہے ہیں ساتھہم نے قدم قدم سے ملایا نہیں تو کیا

ریگ رواں کی طرح ہیں سارے تعلقاتتم نے کسی کا ساتھ نبھایا نہیں تو کیا

ویسے ہمیں تو پیاس میں دریا کی تھی تلاشاب یہ سراب ہی سہی دریا نہیں تو کیا

سوچا بھی تم نے دشت چمن کیسے بن گیامحنت کا یہ عرق یہ پسینا نہیں تو کیا

محسنؔ مری نگاہ کو اچھا لگا وہیدنیا کی وہ نظر میں جو اچھا نہیں تو کیا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں