7 اشعار

ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں

Thahre hue na behte hue paniyon mein hoon

ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں

«ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوںیہ میں کہاں ہوں کیسی پریشانیوں میں ہوں

اک پل کو بھی سکون سے جینا محال ہےکن دشمنان جاں کی نگہبانیوں میں ہوں

یوں جل کے راکھ خواب کے پیکر ہوئے کہ بساک آئینہ بنا ہوا حیرانیوں میں ہوں

جب راہ سہل تھی تو بڑی مشکلوں میں تھااب راہ ہے کٹھن تو کچھ آسانیوں میں ہوں

آساں نہیں ہے اتنا کہ بک جاؤں اس کے ہاتھارزاں نہیں ہوں خواہ فراوانیوں میں ہوں

مجھ کو بھی علم خوب ہے سب مد و جزر کامیں بھی تو سب کے ساتھ انہیں پانیوں میں ہوں

محسنؔ تمام تر سر و ساماں کے باوجودپوچھو نہ کتنی بے سر و سامانیوں میں ہوں

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں