9 اشعار

جانا ہے اسی سمت کہ چارہ نہیں کوئی

Jaana hai isi simt ke chara nahin koi

جانا ہے اسی سمت کہ چارہ نہیں کوئی

«جانا ہے اسی سمت کہ چارہ نہیں کوئی» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جانا ہے اسی سمت کہ چارہ نہیں کوئیجس سمت کو رستہ بھی نکلتا نہیں کوئی

بس دل کا ہے سودا کوئی بازی نہیں سر کیتھوڑا سا ہے نقصان زیادہ نہیں کوئی

منجدھار میں کشتی کا بدلنا نہیں منظورایسی مجھے ساحل کی تمنا نہیں کوئی

ہر شخص یہاں گنبد بے در کی طرح ہےآواز پہ آواز دو سنتا نہیں کوئی

ہم سینہ سپر آ گئے میدان وغا میںاب کیوں صف اعدا سے نکلتا نہیں کوئی

مانا کہ برا ہے جو کم آمیز ہوں اتنایہ تیرا تغافل بھی تو اچھا نہیں کوئی

وہ شعبدہ گر ہی نہ رہا کھیل ہوا ختمہونے کو بس اب اور تماشا نہیں کوئی

اک نقد ہنر ہے کہ نہیں جس کی کوئی قدرپاس اس کے سوا اور اثاثہ نہیں کوئی

پامالی گلشن کی یہ تصویر ہے محسنؔشادابی گلشن کا یہ نقشہ نہیں کوئی

— محسن زیدی