7 اشعار

وہ موت کا منظر جو تھا دن رات وہی ہے

Woh maut ka manzar jo tha din raat wahi hai

وہ موت کا منظر جو تھا دن رات وہی ہے

«وہ موت کا منظر جو تھا دن رات وہی ہے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

وہ موت کا منظر جو تھا دن رات وہی ہےمنہ سے نہ کہو صورت حالات وہی ہے

لفظوں کے الٹ پھیر سے بدلے گا نہ مطلبامداد جسے کہتے ہو خیرات وہی ہے

گل کرنا چراغوں کا تو اک کھیل ہے اس کاواضح ہے پس پردۂ ظلمات وہی ہے

زنجیر میں موسم کی ہیں جکڑے ہوئے دن راتسردی وہی گرمی وہی برسات وہی ہے

ہم نے تو اسی طرح گزارے ہیں شب و روزاپنے لیے ہر دن وہی ہر رات وہی ہے

کچھ میرے ہی مانند ہے طرز سخن اس کاانداز اشارات و کنایات وہی ہے

دونوں ہی طرف آگ برابر کی ہے محسنؔدونوں ہی طرف گرمئ جذبات وہی ہے

— محسن زیدی